تازہ ترین
آج سے پنجاب ، کے پی کے اور کشمیر سمیت اکثر مقامات پرگرج چمک کیساتھ بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو نے کا امکان ہے: محکمہ موسمیات         امریکہ نے مودی ،ٹرمپ ملاقات سے چند گھنٹے قبل معروف کشمیری رہنما اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا         وہ وقت جب انگریزوں نے بھارتیوں کو سانپ پکڑنے پر انعام دینے کا اعلان کیا         معدے کی تیزابیت اور سینے کی جلن کم کرنے والے کھانے         ورلڈ ہاکی لیگ میں شرکت کے بعد قومی ٹیم وطن واپس پہنچ گئی         پاناما جے آئی ٹی نے طارق شفیع کو پھر طلب کرلیا         بلآخر جے آئی ٹی نے مریم نواز کو بھی طلب کر لیا ، 5جولائی کو اہم دستاویز ساتھ لانے کی ہدایت ، حسین اور حسن نواز کو بھی دوبارہ پیش ہونے کی ہدایت         گنجے اور گرتے بالوں والوں کیلئے بڑی خوشخبری ،پیاز کے ذریعے بال پھر سے گھنے بنانے کا آزمودہ طریقہ         لیموں کے ذریعے مچھروں کو دور رکھنے کا آسان طریقہ اور حیران کن طریقہ         سفید بال کالے کرنے کا قدرتی طریقہ        
pic_1486044563

رقم کہاں سے آئی

میری والدہ صاحبہ بڑی عبادت گزار اور اللہ پر توکل کرنے والی ، بڑی شعار اور باہمت خاتون تھیں ۔ والد صاحب کی تنخواہ بہت کم تھی ، لیکن والدہ صاحبہ نے اس مختصر تنخواہ میں بھی ہم بہن بھائیوں کی عمدہ تعلیم اور اچھی تربیت کی۔ کبھی اللہ تعالیٰ کی ناشکری نہیں کی۔

حبیب اشرف صبوحی :
میری والدہ صاحبہ بڑی عبادت گزار اور اللہ پر توکل کرنے والی ، بڑی شعار اور باہمت خاتون تھیں ۔ والد صاحب کی تنخواہ بہت کم تھی ، لیکن والدہ صاحبہ نے اس مختصر تنخواہ میں بھی ہم بہن بھائیوں کی عمدہ تعلیم اور اچھی تربیت کی۔ کبھی اللہ تعالیٰ کی ناشکری نہیں کی ۔ یہاں میں اپنی والدہ صاحبہ کے دو واقعات لکھ رہا ہوں ، جن سے ان کی عظیم شخصیت کااندازہ لگایاجاسکتا ہے ۔
میرے والد صاحب ڈاک خانے میں ملازم تھے ۔ تنخواہ بہت کم تھی ، بس گزر بسر کسی نہ کسی طریقے سے ہورہی تھی ۔ والدہ صاحبہ اکثر والد صاحب سے کہتی تھی کہ اگر کسی مہینے کے اخراجات سے کچھ پیسے بچ جائیں تو گھر کا فلاں فلاں کام ہوجائے ، لیکن اخراجات ہر مہینے کسی نہ کسی وجہ سے بڑھ جاتے تھے ۔
ایک روز والد صاحب شام کو دفتر سے گھر آئے اور والدہ صاحبہ کو خاموشی سے ایک بڑی رقم دی اور کہا : یہ رقم اپنے استعمال میں لاؤ اور جتنے بھی کام رکے ہوئے ہیں ، کرلو۔ یہ سب رقم تمھاری ہے ۔ ماضی کے جتنے بھی گلے شکوے اور خواہشات ہیں اس سے پوری کرلو۔
والدہ صاحب نے خوشی سے پوچھا : اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی ہے ۔
والد صاحب نے بتایا : آج ایک صاحب آئے تھے ، کافی دیر میرے پاس بیٹھے رہے ، جب جانے لگے تو یہ رقم میرے پاس بھول کرچلے گئے ۔ میں نے یہ رقم چھپالی ۔ کچھ دیر بعد وہ صاحب گھبرائے ہوئے میرے پاس آئے اور پوچھا کہ میں اپنا ایک تھیلا، جس میں کچھ رقم تھی ، یہاں تو نہیں بھول گیا ؟ میں نے کہا کہ آپ کہیں بھول آئے ہوں گے۔ تو وہ صاحب چلے گئے ۔
والدہ صاحبہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ رقم اس طریقے سے آئی ہے تو ایک دم ان کا رنگ غم اور پریشانی سے سفید ہوگیا۔ وہ والد صاحب سے کہنے لگیں : تم نے اتنی بڑی بے ایمانی کیسے کی ؟ یہ بات تمھیں زیب نہیں دیتی ۔ میں یہ رقم نہیں لوں گی ، اس رقم کو واپس کرکے آؤ ۔
والد صاحب نے کہا : اس عمل کا گناہ اور ثواب میرے ذمے ہے ، بس تم اس رقم کو استعمال کرو۔
والدہ صاحب نے سختی سے انکار کیا اور کہا : میں یہ رقم استعمال کروں گی ۔ میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا ۔
جب والد نے دیکھا کہ وہ بہت زیادہ پریشان ہوگئی ہیں توکہا : میں مذاق کررہا تھا اور تمھیں آزمانا چاہتا تھا۔ دراصل آج ڈاک خانے کی گاڑی نقدرقم لینے نہیں آئی ۔ اس وجہ سے میں یہ رقم گھر لے آیا کہ کہیں ڈاک خانے سے چوری نہ ہوجائے ۔ یہ سرکاری امانت ہے ۔ صبح واپس لے جاؤں گا۔ والدہ صاحب نے سنا تو سکھ کا سانس لیااور رقم حفاظت سے رکھ لی ۔

 

کمنٹ کریں - Leave Comments

آپ کا ای میل خفیہ رکھا جائے گا۔ تمام فیلڈ فل کرنا ضروری ہیں۔ Your Email will never published. *

*