تازہ ترین
اگر آپ دودھ میں لہسن ڈال کر پئیں گے تو اس خطرناک بیماری سے بچ جائیں گے         ’اگر آپ کا شوہر یہ کام شروع کردے تو سمجھیں وہ بے وفائی کررہا ہے‘ سائنسدانوں نے بیگمات کو ایسی بات بتادی کہ شوہروں کی پریشانی کی حد نہ رہے گی         ’میں بہت اُداس ہوں کیونکہ میری شادی پر منگیتر نے مجھے یہ تحفہ دیا‘ ایسا کونسا مہنگا ترین تحفہ تھا جس نے دلہن کو اُداس کردیا؟ جان کر انٹرنیٹ صارفین خاتون کو گالیاں دینے پر اُترآئے         عمران خان نجی دورے پر شمالی علاقہ سپات ویلی پہنچ گئے         سعودی عرب میں نوجوان بھارتی ڈرائیور اور ادھیڑ عمر سعودی خاتون کی گاڑی میں بنائی گئی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ برپا کردیا، اس میں دونوں کیا گفتگو کررہے ہیں؟ جان کر آپ بھی داد دیں گے         آپ کو کوکاکولا زیادہ پسند ہے یا نہیں؟ سائنسدانوں کے مطابق اس سوال کا جواب بتاسکتا ہے کہ آپ کی شادی کامیاب رہے گی یا ناکام، مگر کیسے؟ آپ بھی جانئے         پولیس نے گلوکارہ حمیراارشد سے جھگڑا کر نے اور قتل کی دھمکیاں دینے پر شوہر احمد بٹ کو حر است میں لے لیا         ایک شادی جس نے دنیا کی تاریخ کے تمام ریکارڈز توڑ دئیے، کتنی رقم خرچ ہوئی اور دلہن کو کتنی مالیت کی انگوٹھی پیش کی گئی؟ جان کر آپ کے واقعی ہوش اُڑجائیں گے         حسین نواز کے بھارتی کمپنیوں کے ساتھ کاروباری رابطے ، نجی ٹی وی نے دستاویزات دکھادیں         پاکستان کے تین ایئرپورٹس پرجدید ترین سکینرنصب        
pic_1486044563

رقم کہاں سے آئی

میری والدہ صاحبہ بڑی عبادت گزار اور اللہ پر توکل کرنے والی ، بڑی شعار اور باہمت خاتون تھیں ۔ والد صاحب کی تنخواہ بہت کم تھی ، لیکن والدہ صاحبہ نے اس مختصر تنخواہ میں بھی ہم بہن بھائیوں کی عمدہ تعلیم اور اچھی تربیت کی۔ کبھی اللہ تعالیٰ کی ناشکری نہیں کی۔

حبیب اشرف صبوحی :
میری والدہ صاحبہ بڑی عبادت گزار اور اللہ پر توکل کرنے والی ، بڑی شعار اور باہمت خاتون تھیں ۔ والد صاحب کی تنخواہ بہت کم تھی ، لیکن والدہ صاحبہ نے اس مختصر تنخواہ میں بھی ہم بہن بھائیوں کی عمدہ تعلیم اور اچھی تربیت کی۔ کبھی اللہ تعالیٰ کی ناشکری نہیں کی ۔ یہاں میں اپنی والدہ صاحبہ کے دو واقعات لکھ رہا ہوں ، جن سے ان کی عظیم شخصیت کااندازہ لگایاجاسکتا ہے ۔
میرے والد صاحب ڈاک خانے میں ملازم تھے ۔ تنخواہ بہت کم تھی ، بس گزر بسر کسی نہ کسی طریقے سے ہورہی تھی ۔ والدہ صاحبہ اکثر والد صاحب سے کہتی تھی کہ اگر کسی مہینے کے اخراجات سے کچھ پیسے بچ جائیں تو گھر کا فلاں فلاں کام ہوجائے ، لیکن اخراجات ہر مہینے کسی نہ کسی وجہ سے بڑھ جاتے تھے ۔
ایک روز والد صاحب شام کو دفتر سے گھر آئے اور والدہ صاحبہ کو خاموشی سے ایک بڑی رقم دی اور کہا : یہ رقم اپنے استعمال میں لاؤ اور جتنے بھی کام رکے ہوئے ہیں ، کرلو۔ یہ سب رقم تمھاری ہے ۔ ماضی کے جتنے بھی گلے شکوے اور خواہشات ہیں اس سے پوری کرلو۔
والدہ صاحب نے خوشی سے پوچھا : اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی ہے ۔
والد صاحب نے بتایا : آج ایک صاحب آئے تھے ، کافی دیر میرے پاس بیٹھے رہے ، جب جانے لگے تو یہ رقم میرے پاس بھول کرچلے گئے ۔ میں نے یہ رقم چھپالی ۔ کچھ دیر بعد وہ صاحب گھبرائے ہوئے میرے پاس آئے اور پوچھا کہ میں اپنا ایک تھیلا، جس میں کچھ رقم تھی ، یہاں تو نہیں بھول گیا ؟ میں نے کہا کہ آپ کہیں بھول آئے ہوں گے۔ تو وہ صاحب چلے گئے ۔
والدہ صاحبہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ رقم اس طریقے سے آئی ہے تو ایک دم ان کا رنگ غم اور پریشانی سے سفید ہوگیا۔ وہ والد صاحب سے کہنے لگیں : تم نے اتنی بڑی بے ایمانی کیسے کی ؟ یہ بات تمھیں زیب نہیں دیتی ۔ میں یہ رقم نہیں لوں گی ، اس رقم کو واپس کرکے آؤ ۔
والد صاحب نے کہا : اس عمل کا گناہ اور ثواب میرے ذمے ہے ، بس تم اس رقم کو استعمال کرو۔
والدہ صاحب نے سختی سے انکار کیا اور کہا : میں یہ رقم استعمال کروں گی ۔ میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا ۔
جب والد نے دیکھا کہ وہ بہت زیادہ پریشان ہوگئی ہیں توکہا : میں مذاق کررہا تھا اور تمھیں آزمانا چاہتا تھا۔ دراصل آج ڈاک خانے کی گاڑی نقدرقم لینے نہیں آئی ۔ اس وجہ سے میں یہ رقم گھر لے آیا کہ کہیں ڈاک خانے سے چوری نہ ہوجائے ۔ یہ سرکاری امانت ہے ۔ صبح واپس لے جاؤں گا۔ والدہ صاحب نے سنا تو سکھ کا سانس لیااور رقم حفاظت سے رکھ لی ۔

 

کمنٹ کریں - Leave Comments

آپ کا ای میل خفیہ رکھا جائے گا۔ تمام فیلڈ فل کرنا ضروری ہیں۔ Your Email will never published. *

*