تازہ ترین
آپریشن خیبر4مکمل ، راجگال اور شوال میں زمینی اہداف حاصل کرلیے ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر         ہماری خفیہ ایجنسیزاتنی قابل ہیں کہ وہ کوئی بھی معلومات کہیں سے بھی نکال سکتی ہیں:میجر جنرل آصف غفور         پاک فو ج نے 2013میں سنی مسجد پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا نیٹ ورک پکڑ لیا ،اعترافی بیان جاری         ارفع کریم ٹاور بم دھماکے کا اصل ہدف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے، عین موقع پر دہشت گردوں نے پولیس نوجوانوں پر حملہ کیا: ڈی جی آئی ایس پی آر         جشن آزادی کی تقریبات پر بڑے حملوں کو پاک فوج نے کیسے ناکام بنایا؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے خوفناک حقیقت بیان کردی         کیریئر میں فضائی انجینئر بننا چاہتی تھی: پریانکا چوپڑا         وزیر اعلی پنجاب شہبازشریف کی طرف سے عمران خان کو 10ارب روپے ہرجانے کیس کی سماعت،عمران خان کو جواب داخل کروانے کے ایک بار پھر 9ستمبر تک کا وقت دے دیا گیا         فوج اورسویلین کوئی تقسیم نہیں ہے:میجر جنرل آصف غفور         ڈان لیکس رپورٹ کھولنا حکومت کی صوابدید ہے : میجر جنرل آصف غفور         پرویز مشرف 4دہائیوں تک فوج میں رہے ہیں، ان کے فوج کے حوالے سے بیانات ذاتی تجربہ ہیں: میجر جنر ل آصف غفور        
pic_b0ce8_1497011142

خود غرض لومڑی

مرغی،لومڑی کو جھاڑیوں کے پاس بیٹھی دیکھ کر ٹھٹک گئی۔وہ محتاط قدموں سے یہ دیکھنے کے لئے آگے بڑھی کہ لومڑی یہاں کیا کررہی ہے۔اس نے دیکھا،لومڑی کی دُم ایک لوہے کے شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے،جسے وہ چھرانے کی کوشش کر رہی ہے۔اتنے میں لومڑی کی نظر مرغی پر پڑگئی۔

جاوید اقبال:
مرغی،لومڑی کو جھاڑیوں کے پاس بیٹھی دیکھ کر ٹھٹک گئی۔وہ محتاط قدموں سے یہ دیکھنے کے لئے آگے بڑھی کہ لومڑی یہاں کیا کررہی ہے۔اس نے دیکھا،لومڑی کی دُم ایک لوہے کے شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے،جسے وہ چھرانے کی کوشش کر رہی ہے۔اتنے میں لومڑی کی نظر مرغی پر پڑگئی۔”آؤ آؤ بہن!کیا حال ہے؟لومڑی نے چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا۔”یہ کیا ہوا؟“ مرغی نے لومڑی کی شکنجے میں پھنسی ہوئی دم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
لومڑی نے کہا:”بہن! اس نامراد شکنجے کے ساتھ گوشت کا ٹکڑا لگا ہوا تھا۔میں نے اسے کھانا چاہا تو ایک زور کی آواز آئی اور میری دُم اس میں پھنس گئی۔“
مرغی نے کہا:”لیکن تم تو بہت چالاک اور ذہین ہو،تم اس میں کیسے پھنس گئیں؟“
مرغی سوچ رہی تھی کہ کہیں لومڑی کوئی چال نہ چل رہی ہوں۔“
لومڑی بولی:”بہن!لالچ بُری بلا ہے۔گوشت کا ٹکڑا دیکھ کر میرا دل للچا گیا۔اگرتم میری مدد کروتومیں شکنجے سے آزاد ہوسکتی ہوں۔“
مرغی نے کہا:”ابھی دو دن پہلے تم نے میرے ننھے منھے بچے کو پھاڑ کھایا تھا،پھر بھی مجھ سے مدد کی توقع رکھتی ہوں۔“
لومڑی نے کہا :”بہن مجھ سے غلطی ہوگئی۔میں تم سے معافی مانگتی ہوں۔دیکھو میرا تم پر ایک احسان بھی تو ہے!“
”کیسا احسان؟“مرغی نے حیرت سے کہا۔
”دیکھو میری وجہ سے تم اور تمہارے بچے محفوظ ہیں۔میں تمھاری ہمسائی نہ ہوتی تو لوگ تمھیں اورتمھارے بچوں کو پکڑ کرلے گئے ہوتے۔“
لومڑی کی بات سن کر مرغی سوچ میں پڑگئی کہ لومڑی کی مدد کرے کہ نہ کرے۔
مرغی کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر لومڑی چالاکی سے بولی:بہن! کیا سوچ رہی ہوں،دیر نہ کرو رنہ شکاری آجائے گا۔میری توجان جائے گی،میرے ساتھ تم اور تمھارے بچے بھی نہ بچ سکیں گے۔“
مرغی،لومڑی کی چال میں آگئی۔وہ اس کے پاس چلی آئی اور غور سے اس کی پھنسی دُم کو دیکھنے لگی۔اس نے لوہے کے شکنجے کا اپنی چونچ سے ٹھونگیں ماریں،پنجے سے کریدا،پھر بولی:”یہ تو بہت مظبوط ہے،میں اسے نہیں کھول سکتی۔“
لومڑی سر گھما کر بولی:”لو،میں بھی اپنے پنجے سے زور لگاتی ہوں۔“
دونوں نے مل کر زور لگایا تو شکنجے کا اوپری حصہ کچھ اوپر اُٹھا۔لومری نے اپنی دُم کو باہر کھینچ لیا اور جلدی سے شکنجے کو چھوڑدیا،جس سے شکنجے کی نوک ٹھک سے مرغی کے پنجے پر گری اور اس کا پنجہ شکنجے میں پھنس گیا۔
لومڑی نے اپنی دُم کو جھاڑا،سہلایا۔اس کی دُم کے بہت سارے بال اُکھر گئے تھے ۔وہ اپنی زخمی دُم اُٹھائے جنگل کی طرف چل پڑی۔
لومڑی کو جاتے دیکھ کر مرغی نے کہا:”بہن کہاں چلیں،میرا پنجہ تو چھڑاتی جاؤ؟“
لومڑی بولی:”بہن میری دُم پر زخم ہو گیا ہے۔میں ذرا گھر جا کر مرہم پٹی کرلوں،پھر آکر تمہیں آزاد کرتی ہوں۔“یہ کہہ کر لومڑی جنگل کی طرف بڑھ گئی۔اس کا رُخ مرغی کے گھر کی طرف تھا،جہاں مرغی کے بچے اکیلے تھے۔
وہ خیالوں میں ہی ان کے مزے دار گوشت کے چٹخارے لیتی تالاب کے کنارے پہنچی اور پھر جیسے ہی اس نے مرغی کے گھر میں داخل ہونا چاہا۔ایک کالی بلاسی اس پرجھپٹی،اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی،اسے زور کا ایک دھکا لگا۔وہ اُڑکر دور جا گری۔اسی وقت اس نے بھیا ریچھ کو مرغی کے گھر سے نکل کر اپنی طرف آتے دیکھا تو دُم دبا کر وہاں سے بھاگی۔
مرغی،بھیاریچھ کو اپنے گھر اور بچوں کی حفاظت کا کہہ کر گئی تھی۔بھیاریچھ مرغی کو ڈھونڈنے نکلے۔جھاڑیوں کے پاس انہیں مرغی مل گئی۔انہوں نے اس کا پنجہ شکنجے سے نکالا اور اسے اس کے گھر تک چھوڑنے آئے۔
لومڑی ریچھ کے ڈر سے یہ جنگل ہی چھوڑ گئی اور کسی دوسری جگی جا بسی۔

 

کمنٹ کریں - Leave Comments

آپ کا ای میل خفیہ رکھا جائے گا۔ تمام فیلڈ فل کرنا ضروری ہیں۔ Your Email will never published. *

*