تازہ ترین
آپریشن خیبر4مکمل ، راجگال اور شوال میں زمینی اہداف حاصل کرلیے ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر         ہماری خفیہ ایجنسیزاتنی قابل ہیں کہ وہ کوئی بھی معلومات کہیں سے بھی نکال سکتی ہیں:میجر جنرل آصف غفور         پاک فو ج نے 2013میں سنی مسجد پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا نیٹ ورک پکڑ لیا ،اعترافی بیان جاری         ارفع کریم ٹاور بم دھماکے کا اصل ہدف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے، عین موقع پر دہشت گردوں نے پولیس نوجوانوں پر حملہ کیا: ڈی جی آئی ایس پی آر         جشن آزادی کی تقریبات پر بڑے حملوں کو پاک فوج نے کیسے ناکام بنایا؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے خوفناک حقیقت بیان کردی         کیریئر میں فضائی انجینئر بننا چاہتی تھی: پریانکا چوپڑا         وزیر اعلی پنجاب شہبازشریف کی طرف سے عمران خان کو 10ارب روپے ہرجانے کیس کی سماعت،عمران خان کو جواب داخل کروانے کے ایک بار پھر 9ستمبر تک کا وقت دے دیا گیا         فوج اورسویلین کوئی تقسیم نہیں ہے:میجر جنرل آصف غفور         ڈان لیکس رپورٹ کھولنا حکومت کی صوابدید ہے : میجر جنرل آصف غفور         پرویز مشرف 4دہائیوں تک فوج میں رہے ہیں، ان کے فوج کے حوالے سے بیانات ذاتی تجربہ ہیں: میجر جنر ل آصف غفور        
pic_a9653_1498822979

خوشامد بُری بلا ہے

ایک ہرے بھرے جنگل میں بہت سے جانور رہتے تھے۔جنگل کا شیر بوڑھا اور عقلمند تھا جسکی وجہ سے سبھی جانور پُرسکون زندگی بسر کررہے تھے۔جانوروں کی آپس میں علیک سلیک اور دوستی بھی تھی جب فارغ ہوتے تو خوب گپ شپ ہوتی۔

ساجد کمبوہ:
ایک ہرے بھرے جنگل میں بہت سے جانور رہتے تھے۔جنگل کا شیر بوڑھا اور عقلمند تھا جسکی وجہ سے سبھی جانور پُرسکون زندگی بسر کررہے تھے۔جانوروں کی آپس میں علیک سلیک اور دوستی بھی تھی جب فارغ ہوتے تو خوب گپ شپ ہوتی۔لومڑی اور بھڑیا بچپن سے دوست تھے،جب ملتے خوب باتیں ہوتیں۔ایک دن سرراہ اُن کی ملاقات ہوئی تو بھیڑیے نے کہا ۔بی لومڑی اب جنگل کا شکار کم ہورہا ہے،حضرت انسان نے شکار کر کر کے ہم جانوروں پر بڑا ظلم کیا ہے،اب مجھے دیکھو بھوکا ہوں بھیڑ نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ۔اب تو جنگل کے اردگرد بھی بھیڑیں کم ہوگئی ہیں،کھانے کو ترس گیا ہوں کہیں بھی شکار․․․․․․
کیا مطلب؟شکار نہیں ملتا․․․․․․اگر عقل ہوتو شکار بہت ہے․․․․․
بی لومڑی․․․․․اب جانور بہت ہوشیار ہوگئے ہیں،اتنا ڈرتے ہیں کہ انسان کو دیکھ کر چھپتے پھرتے ہیں،ہمیں دیکھ کر ادھر اُدھر ہوجاتے ہیں۔اب توٹی وی کیبل نے اتنا ہوشیار کردیا ہے کہ فوراََ ہی مس کال کرکے ہوشیار کردیتے ہیں ،اب تو ٹویٹر اور وائی فائی اور فیس بک بھی جانوروں کی دسترس میں ہیں۔
اچھا آؤ ٹرائی کرتی ہوں،لومڑی نے بھیریے کو ساتھ لیا اور ندی کی طرف چل پڑی وہاں دیکھا کہ مرغابیاں اور دوسرے جانور پانی میں تیر رہے تھے،اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔لومڑی نے بھیڑیے کو جھاڑیوں میں چھپا دیا اور مرغابیوں کی طرف بڑھ گئی۔لومڑی نے مسکراتے ہوئے مرغابی سے کہا․․․․․کیسی ہو میری دوست؟
اچھی ہوں بی لومڑی آج خیر ہے۔تمہاری چالاکی کے بڑے قصے سن رکھے ہیں آج تمہارا دوست بھیڑیا نظر نہیں آرہا؟وہ جھاڑی میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے کہ مان نہیں سکتا․․․․․لومڑی نے مکاری سے کہا۔
وہ کہہ رہا ہے میں مان نہیں سکتا․․․․․وہ کیا کہہ رہا ہے؟مرغابی نے حیرانی سے پوچھا،چھوڑو میری فرینڈ مرغابی․․․․وہ بھیڑیا ہے،اُسکا کیا کہنا․․․․․بی لومڑی نے کہا پھر بھی وہ کیوں جھاڑی میں چھپا بیٹھا ہے؟مرغابی نے حیرت سے پوچھا۔
اصل میں وہ کہہ رہا ہے کہ مرغابی کے پر بڑے سخت ہوتے ہیں،اگر اس کا تکیہ بنایا جائے تو کوئی اُس پر سو نہیں سکتا مگر میں کہتی ہوں تمہارے پر نرم ہوتے ہیں،خوبصورت ہوتے ہیں ان کا تکیہ بڑا نرم ہوتا ہے۔

 

کمنٹ کریں - Leave Comments

آپ کا ای میل خفیہ رکھا جائے گا۔ تمام فیلڈ فل کرنا ضروری ہیں۔ Your Email will never published. *

*