تازہ ترین
آپریشن خیبر4مکمل ، راجگال اور شوال میں زمینی اہداف حاصل کرلیے ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر         ہماری خفیہ ایجنسیزاتنی قابل ہیں کہ وہ کوئی بھی معلومات کہیں سے بھی نکال سکتی ہیں:میجر جنرل آصف غفور         پاک فو ج نے 2013میں سنی مسجد پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا نیٹ ورک پکڑ لیا ،اعترافی بیان جاری         ارفع کریم ٹاور بم دھماکے کا اصل ہدف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے، عین موقع پر دہشت گردوں نے پولیس نوجوانوں پر حملہ کیا: ڈی جی آئی ایس پی آر         جشن آزادی کی تقریبات پر بڑے حملوں کو پاک فوج نے کیسے ناکام بنایا؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے خوفناک حقیقت بیان کردی         کیریئر میں فضائی انجینئر بننا چاہتی تھی: پریانکا چوپڑا         وزیر اعلی پنجاب شہبازشریف کی طرف سے عمران خان کو 10ارب روپے ہرجانے کیس کی سماعت،عمران خان کو جواب داخل کروانے کے ایک بار پھر 9ستمبر تک کا وقت دے دیا گیا         فوج اورسویلین کوئی تقسیم نہیں ہے:میجر جنرل آصف غفور         ڈان لیکس رپورٹ کھولنا حکومت کی صوابدید ہے : میجر جنرل آصف غفور         پرویز مشرف 4دہائیوں تک فوج میں رہے ہیں، ان کے فوج کے حوالے سے بیانات ذاتی تجربہ ہیں: میجر جنر ل آصف غفور        
dot pk(1)

دی لائف آف A گارڈ

دی لائف آف A گارڈ
جب سے ہم نے امریکہ کی دوستی کی پٹی اپنی آنکھوں پر باندھی ہے تب سے ہم غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ ہم کسی بھی جگہ محفوظ نہیں بھلے گھر ہو بینک ہو ، ہوٹل ہو یا کوئی پرائیویٹ دفتر ہویا سرکاری ادارہ۔ ہمارے اوپر خوف کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں ۔ہمارے اسکول ہوں یا کالجز ،ادارے ہوں یا یونیورسٹیز ہوں ہم کہیں بھی محفوظ نہیں ہوتے ۔شروع میں ان سب جگہوں پر ہلکا سا تحفظ کا احساس پیدا کرنے کے لئے ہم پرائیویٹ گارڈ ز کا سہارا لینے پر مجبور ہوگئے۔ابتدا میں ہر گلی محلے والوں نے چوکیدار رکھے ہر مارکیٹ پلازہ نے دیسی ٹائپ محافظ ارینج کئے ان کے پاس چھڑی ہوتی تھی اور ایک وسل یہ بے چارے نہتے ایک وسل کے زور پر کب تک ہمیں جدید ہتھیاروں سے لیس چوروں ڈاکوؤں سے بچاتے ۔پھر ہم دہشت گردی کے خلاف پرائی جنگ میں پوری قوت سے کود پڑے ہم مزید غیر محفوظ ہو گئے ۔اسی موقع پر پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیوں نے جنم لیا ۔ان کمپنیوں نے ریٹائرڈ پولیس اور فورسز کے آفیسرز اور ملازمین کو ہائیر کیا ۔انہیں نیلی پیلی وردیاں پہنائیں ۔ہتھیار مہیا کئے اور مارکیٹ میں تھرو کر دیا ۔یوں ہم نے مارکیٹوں سے لے کر یونیورسٹیز تک لولی لنگڑی سیکورٹی کا بندوبست کر لیا اس میں کوئی شک نہیں کہ ان گارڈز نے کافی مناسب کام کیا۔ کیونکہ یہ کسی قدر ٹرینڈ بھی تھے اور اسلحہ سے بھی لیس تھے۔ان کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیز کا کاروبار مزید چلنے لگا۔اس چمک نے ان گارڈز کی تنخواہ اور دیگر مراعات پر بڑا بُرا اثر ڈالا ۔کمپنیوں نے گارڈز کی کمی پوری کرنے کے لئے سویلینز کو بھر تی کرنا شروع کر دیا۔ اس اقدام میں بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔مقابلے کی دوڑ نے کم تنخواہ پر گارڈز رکھنے کے ٹرینڈ کو فروغ دیا ۔بھوک نے بے روزگاری کے مارے ہوئے نوجوانوں کے پاس چند ہزار کی خاطر گولی کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی آپشن نہ چھوڑی ۔چھ سے نوہزار کے درمیان تنخواہ دے کر معمولی پرانے ہتھیاروں سے لیس یہ گارڈز بے چارے معمولی سی ٹریننگ اور ہتھیاروں کے ساتھ پھرسے کمزور پڑنے لگے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سے مزید کمزور پڑتے جارہے ہیں۔آپ خود بتائیں ہزار روپے کے سات یا آٹھ نوٹ اس قدر کمر توڑ مہنگائی کے دور میں کہاں تک زندگی کی دوڑ میں آپ کاساتھ دے سکتے ہیں ۔کم تنخواہ نے ان کے پاس اور کوئی آپشن نہیں چھوڑا کہ یہ پارٹ ٹائم کام شروع کر دیں ۔ یہاں سے ان کی بے خوابی کا آغاز ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے بسا اوقات آپ کو پرائیویٹ گارڈزکرسیوں پر بیٹھے اونگھتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ان میں سے اگر کسی نے تنخواہ کی کمی کا رونا رویا اسے نوکری سے نکال کر دوسروں کے لئے عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ان کی نہ تو کوئی یونین ہے نہ ہی ان کے حق کی آواز کوئی بلند کرتا ہے۔ شروع میں ان کو پراپر یونیفارم اور بوٹ ملا کرتے تھے۔ پھر کمپنیوں نے یہ پیسے بھی بچانے شروع کر دیئے۔اسی لئے اب اکثر گارڈز رنگ برنگے اور پھٹے پرانے یونیفارم میں نظر آتے ہیں ۔ پاؤں میں چپل یا پھر سینڈل پہنے ڈیوٹی سرانجام دیتے نظر آتے ہیں ۔ ان کی یونیفارم اسقدر موٹی اور کھردری سی ہوتی ہے کہ جسے دیکھ کر یخ سردی میں بھی پسینہ آجاتا ہے۔ جون جولائی کی گرمی میں اسے زیب تن کرنے کا سوچ کر بھی گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔ پیٹ کی آگ بڑی ظالم ہوتی ہے۔ یہ ہر ستم سہنے اور خاموشی کے ساتھ گھٹ گھٹ کر زندہ رہنے کا ہنر سکھا دیتی ہے۔ سو یہ گارڈز بے چارے بھی سب کچھ خاموشی سے سہہ رہے ہیں ۔ یہ ہر آتے جاتے کو بڑے ادب سے سلام کرتے ہیں اکثر بے چاروں کے پاس گھڑی بھر بیٹھنے کے لئے کوئی کرسی یا سایہ تک مہیا نہیں ہوتا۔گو یا یہ جن کمپنیوں کے ملازم ہیں یاجن کے پاس یہ حفاظت کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں وہ انہیں معلوم نہیں انسان بھی سمجھتے ہیں کہ نہیں۔ قریب دو سال پہلے کا واقع ہے کہ ایک پرائیویٹ بینک میں دن دیہاڑے ڈاکوؤں نے ہلہ بول دیا۔ ڈیوٹی پر موجود دو گارڈ ز نے ان کا بھر پور مقابلہ کیا اور دونوں جان کی بازی ہار گئے ۔کسی کو نہیں معلوم کہ ان کے لواحقین کے ساتھ کیا سلوک ہوا کیا سکیورٹی کمپنی نے ان کی سروسز کے بدلے ان کے خاندان کی مالی امداد کی۔ یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر غالب امکان یہی ہے کہ کسی نے ان کے لواحقین پر توجہ نہیں دی ہوگی۔اگر دی بھی ہو گی تو اسقدر سرسری کہ نہ ہونے کے برابر ۔نہ تو انہیں اعزاز واکرام کے ساتھ دفن کیا گیا ہوگا ۔نہ ان کے لئے کسی نے جانباز شہید کا لفظ استعمال کیا ہوگا۔نہ ہی ان کی تصاویر کسی بورڈ پر لگائی گئی ہوں گی۔ کیونکہ یہ سب اعزاز و اکرام تو ان کو ملتے نہیں جو سرکار کے ملازم ہوں۔ پرائیویٹ گارڈز کی بہادری تو بزدلی سے بھی ارزاں ٹھہری ۔یہ ایک واقع نہیں اکثر ہی اسی طرح کے واقعات سننے میں آتے رہتے ہیں ۔ ایک طرف تو ضروری ہے کہ ان کو جدید اسلحہ بلٹ پروف جیکٹس اچھی یونیفارم اور سہولیات مہیا کی جائیں ۔ان کی کم سے کم تنخواہ مقرر کی جائے ان کی قربانیوں کو کبھی Acknowledge کیا جائے ان کو بھی انسان کا درجہ دیا جائے بصورت دیگر یہ لاٹ کم سے کم ہوتی جائے گی۔ کیونکہ جتنی ان کو تنخواہ دی جاتی ہے۔ اس سے زیادہ تو یہ مزدوری کرکے یا ریڑھی لگا کر بھی کما سکتے ہیں ۔ ان کی جانبازی نے میریٹ ہوٹل اسلام آباد جیسے بڑے خود کش حملوں کو بھی ناکام بنایا ہے۔ اس کے باوجود ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ کوئی سرکاری گارڈ ہو یا پرائیویٹ خون سب کا ہی لال اور قیمتی ہوتا ہے۔ کسی کا خون ازراں نہیں ہوتا ۔تمام گارڈز جو کہ چو بیس گھنٹے موت کے سامنے سینہ تان کر گزارتے ہیں ۔یہ لوگ جن اداروں ،مارکیٹیں،یونیورسٹیز ،کالونیوں میں فرائض ادا کرتے ہیں جن لوگوں کی حفاظت پر یہ مامور ہوتے ہیں ان سے بھی گزارش ہے کہ انسانیت کے ناطے ان کا خیال رکھا کریں ۔ایک گلاس ٹھنڈا پانی یا مشروب کی کچھ زیادہ قیمت نہیں ہوتی۔ مگر یہ ان کے دل میں قدر و احساس جگا سکتا ہے۔ ایک وقت کا کھانا یا دوگھڑی کے لئے ان کے پاس رک کر حال احوال کرنے یا تعریف کے دو بول کہہ دینے سے ان کا مورال خاصا بلند ہو جائے گا۔ یہ جی جان سے آپ کی جان و مال کی حفاظت کے لئے فولادی دیوار کی طرح سینہ سر ہو جائیں گے۔ جذبے اور بہادریاں لڑا کرتی ہیں ۔تھکے ہارے وجود تو دوگھڑی اور دو پل کے لئے اپنا وجود ٹھیک سے نہیں اُٹھا پاتے ۔آپ ان کو عزت و احترام دے کر دیکھیں آپ کو ان کے جذبے اور سپرٹ میں زمین آسمان کا فرق صاف نظر آئے گا۔

کمنٹ کریں - Leave Comments

آپ کا ای میل خفیہ رکھا جائے گا۔ تمام فیلڈ فل کرنا ضروری ہیں۔ Your Email will never published. *

*