تازہ ترین
آپریشن خیبر4مکمل ، راجگال اور شوال میں زمینی اہداف حاصل کرلیے ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر         ہماری خفیہ ایجنسیزاتنی قابل ہیں کہ وہ کوئی بھی معلومات کہیں سے بھی نکال سکتی ہیں:میجر جنرل آصف غفور         پاک فو ج نے 2013میں سنی مسجد پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا نیٹ ورک پکڑ لیا ،اعترافی بیان جاری         ارفع کریم ٹاور بم دھماکے کا اصل ہدف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے، عین موقع پر دہشت گردوں نے پولیس نوجوانوں پر حملہ کیا: ڈی جی آئی ایس پی آر         جشن آزادی کی تقریبات پر بڑے حملوں کو پاک فوج نے کیسے ناکام بنایا؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے خوفناک حقیقت بیان کردی         کیریئر میں فضائی انجینئر بننا چاہتی تھی: پریانکا چوپڑا         وزیر اعلی پنجاب شہبازشریف کی طرف سے عمران خان کو 10ارب روپے ہرجانے کیس کی سماعت،عمران خان کو جواب داخل کروانے کے ایک بار پھر 9ستمبر تک کا وقت دے دیا گیا         فوج اورسویلین کوئی تقسیم نہیں ہے:میجر جنرل آصف غفور         ڈان لیکس رپورٹ کھولنا حکومت کی صوابدید ہے : میجر جنرل آصف غفور         پرویز مشرف 4دہائیوں تک فوج میں رہے ہیں، ان کے فوج کے حوالے سے بیانات ذاتی تجربہ ہیں: میجر جنر ل آصف غفور        
news-1502534264-3223_large

خبردار۔شادی سے پہلے سوچ لیں کہیں آپ ایسا جیون ساتھی تو چُن رہے جو اس شرمناک مرض کا شکار ہے،پاکستان میں پھیلنے والی جاں لیوا بیماری کے متعلق ہوشربا حقائق

لاہور(نظام الدولہ) اپنے جیون ساتھی کے علاوہ جنسی تعلق قائم کرنے والے عادی افراد کو یہ بات جان لینی چاہئے کہ پاکستان میں بھی ایڈز پھیل رہا ہے ۔حالیہ رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ پاکستانی عورتوں مردوں اور ہیجڑوں میں بھی ایڈز سرایت کرچکا ہے لہذا ہر وہ شخص جو زنا جیسے گناہ کا مرتکب ہورہا ہے ،اسے بھی اور جو افراد آوارگی کا شکار ہیں انہیں بھی کسی ایسی عورت یا مرد سے شادی کرنے سے گریز کرنا چاہئے جو سیکس ریلیشن میں غیر محتاط ہوتا ہے کیونکہ بے خبری میں وہ کسی ایڈز زدہ انسان سے شادی کربیٹھے گا تو اس سے صرف ایک نہیں بلکہ وہ اور ان سے پیدا ہونے والے بچے کو بھی موت کامرض لاحق ہوسکتا ہے ۔
نیشنل ایڈز پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں سوا لاکھ کے قریب افراد ایڈز میں مبتلاہوچکے ہیں ۔ان میں سے 18868 مریض ادارہ سے رجسٹرڈ ہیں اور 9227 افراد کا علاج کیا جارہا ہے۔ایک روپورٹ کے مطابق پاکستان میں گندی اور آلودہ سرنجوں سے ایڈز کا شکار ہونے والے افراد کے علاوہ سب سے زیادہ تعداد سیکس ورکر عورتوں کی ہے اور یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے۔یہ لوگ شروع میں اپنامرض چھپاتے ہیں اور بوجوہ حقیقت کا ادراک ہونے کے ،یہ صحت مند لوگوں کو اس مرض میں مبتلا کردیتے ہیں۔بہت سے لوگ سیکس ورکر اور آوارہ جنس افراد سے شادی کربیٹھتے ہیں جس سے ان کی زندگی روگ بن جاتی اور وہ خود بھی اسکا شکار ہوجاتے ہیں ۔

کمنٹ کریں - Leave Comments

آپ کا ای میل خفیہ رکھا جائے گا۔ تمام فیلڈ فل کرنا ضروری ہیں۔ Your Email will never published. *

*