تازہ ترین
بورے والا:ڈی سی او وہاڑی کا چیئرمین بلدیہ کے ہمراہ رمضان بچت بازار کا دورہ۔         بورے والا: تیز رفتار ڈالہ کی موٹر سائیکل کو ٹکر،45سالہ نوجواں شدید زخمی۔         بورے والا: خون سفید ہو گیا پہلے بیٹے کے ہاتھوں ماں قتل اب بھائی کے ہاتھوں بھائی قتل۔         ”پاکستان کیساتھ کوئی میچ بھی نہیں، پھر بھی پسینے چھوٹ رہے ہیں۔۔۔“ بنگلہ دیشی کپتان کی چھٹی حس ”پھڑکنے“ لگی، پاکستانی ٹیم کے بارے میں ایسی بات کہہ دی جس کا چرچا پوری دنیا میں ہے، جان کر آپ ٹورنامنٹ کیلئے مزید پرجوش ہو جائیں گے         ڈرائیور کی بیٹی پاکستان کی وہ اداکارہ جو پیدائش کے وقت اتنی خوبصورت تھی کہ پیدا ہوتے ہی مالکان نے اسے گود لے لیا اور پھر بڑی ہو کر وہ کرکٹر سرفراز نواز کی دلہن بنی         امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مسلمانوں کو رمضان المبارک کی مبارکباد کا پیغام         رحیم یار خان : جائیداد کے تنازع پر چچا زاد بھائیوں نے کزن کی ناک اور ٹانگ کاٹ دی         نشے کی حالت میں ڈرائیونگ : عدالت نے نیوزی لینڈ کے فاسٹ بالرکو سزا سنا دی         صدر ممنون حسین کی ماہانہ تنخواہ 10 لاکھ سے بڑھ کر16 لاکھ روپے ہوگئی         عمران خان اے این پی کی وکٹ لے اڑے،عامر ایوب پی ٹی آئی میں شامل        
news-1495179202-5735_large

’وہ گاؤں جہاں رہنے والے مردوں سے کوئی لڑکی شادی کرنے کو تیارنہیں کیونکہ ۔ ۔ ۔‘

شادی عمومی طورپر زندگی میں ایک ہی بار ہوتی ہے اور اس مقدس بندھن کے لیے زندگی کی آسائشوں اور بہتر سے بہتر رشتہ دیکھا جاتاہے لیکن بھارتی ریاست اتر پردیش کے ایک گاؤں میں پانی سمیت زندگی کی بنیادی سہولیت ہی میسر نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے مردوں کیساتھ کوئی لڑکی شادی کرنے کو تیار نہیں ۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق اتر پردیش کے گاؤں شری تاراماجرا میں کوئی دوسرے علاقوں کی عورت شادی کرنے کو تیار نہیں اور اسے ’کنواروں کا گاؤں ‘ بھی کہا جاتاہے کیونکہ یہاں آج بھی پانی کی قلت ہے اور زیرزمین انتہائی گہرائی میں موجود پانی بھی استعمال کے قابل نہیں، آج بھی اس گاؤں میں بجلی جیسی سہولت بھی دستیاب نہیں جس کی وجہ سے ممکنہ دلہنیں اس گاؤں کے مکینوں سے شادی کرنے کو تیار نہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ صرف 35کلومیٹر دور الہ آباد کی مکین بلکہ نواحی اضلاع پراتاپھگڑھ ، کوشمبی اور چتراکوٹ جیسے علاقوں کی خواتین بھی اس گاؤں کے نوجوانوں کی شادی کی تجویز مسترد کردیتی ہیں کیونکہ ان نوجوانوں سے شادی کرنے کا مطلب اپنی زندگی کو مزید مشکلات میں ڈالنا ہے ۔
گاؤں کی مجموعی آباد ی تقریباً ایک ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور18سے 29سال کے 50افراد کو اب بھی دلہنوں کی تلاش ہے ۔ویڈیو بھی دیکھ سکتے ہیں

کمنٹ کریں - Leave Comments

آپ کا ای میل خفیہ رکھا جائے گا۔ تمام فیلڈ فل کرنا ضروری ہیں۔ Your Email will never published. *

*