تازہ ترین
مسافر جہاز ٹیک آف ہونے سے پہلے جہاز میں ایک ایسا بچہ آگیا کہ ہر مسافر کا سانس اٹک کر رہ گیا، ڈاکٹروں نے تمام مسافروں کو ہسپتال پہنچنے کا حکم دے دیا کیونکہ ۔۔۔         سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مل کر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا کو اربوں روپے کا تحفہ دے دیا، ایسا تحفہ کہ امریکن صدر کی بیٹی کیلئے خوشی چھپانا ممکن نہ رہا         تاریخ کا یہ معروف ترین باکسنگ مقابلہ تو آپ کو یاد ہو گا جب مائیک ٹائیسن نے اپنے مخالف کاکان کاٹ کھایا، لیکن پھر اس کان کے ساتھ کیا کیا تھا؟ پہلی مرتبہ معروف باکسر نے راز سے پردہ اُٹھا دیا، جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے         برطانیہ میں نوجوان لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والا بنگلہ دیشی شہری پکڑا گیا، پولیس نے اسے کیسے ڈھونڈ ا ؟ ایسا انوکھا طریقہ جو آج تک ایسے کسی مجرم کو پکڑنے کیلئے استعمال نہیں کیا گیا، جان کر کوئی ایسا کام کرنے کا سوچے ہی نہ         لیو ایوارڈز کی رنگارنگ تقریب،دیدار کی 3 سال بعد سٹیج پر آمد ، فنکاروں کی پرفارمنس نے حاضرین کے دل موہ لیے         شادی کی تقریب کے دوران شوہر کی اپنی بیگم سے مہمانوں کے ساتھ ایسا شرمناک کام کرنے کی خواہش کہ انکار پر غصے میں آکر چھت سے ہی نیچے پھینک دیا         ’ میرے پیٹ میں اکثر درد رہتا تھا، آہستہ آہستہ درد کے ساتھ پیٹ بھی بڑھنے لگا تو لوگوں نے مجھے حاملہ سمجھنا شروع کر دیا، پھر ڈاکٹر نے الٹرا ساﺅنڈ کیا تو جسم میں موجود ایسی چیز نظر آگئی کہ واقعی پیروں تلے زمین نکل گئی، ڈاکٹر نے بھی کبھی نہ سوچا تھا کہ یہ دراصل۔۔۔         چینی لڑکیوں سے شادی کرنے والے پاکستانی مشکلات کا شکار         ’میرے دوست نے بتایا کہ آغا خان ہسپتال کے سامنے ایک گدھا پڑا ہے جسے مدد کی اشد ضرورت ہے ، میں فوراً وہاں پہنچا تو دیکھا کہ۔۔۔‘ پاکستانی نوجوان نے ایسا واقعہ سنا دیا کہ جان کرآپ کیلئے یقین کرنا مشکل ہو جائے گا، آپ نے پہلے کبھی نہ سنا ہو گا کہ ۔۔۔         21 سالہ نوجوان بانجھ لڑکی، ڈاکٹروں نے ماں کے جسم سے ایسی چیز نکال کر اس کے بدن میں لگادی کہ زندگی بدل گئی، فوراً بچہ پیدا کرنے کے قابل ہو گئی کیونکہ۔۔۔        
pic_1482995665

خواتین کے تعلیمی حقوق اور معاشرتی ترقی

اہل دانش نے ایک مر د کی تعلیم کو ایک فر د کی تعلیم جبکہ ایک عورت کی تعلیم کہ پورے خاندان کی تعلیم قرار دیا ہے۔ جو اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ عورتوں کی تعلیم نہ صرف خاندان کی فلاح و بہبود بلکہ اگلی سطح پر پورے معاشرے کی ترقی اور فلاح و بہبود کی ضامن ہے۔ تمام الہامی مذاہب اور ترقی پسند معاشروں نے عورتوں کی تعلیم و تربیت کے حق اور ضرورت و اہمیت کو معاشرتی ترقی کا لازمی جزو قرار دیا ہے

اہل دانش نے ایک مر د کی تعلیم کو ایک فر د کی تعلیم جبکہ ایک عورت کی تعلیم کہ پورے خاندان کی تعلیم قرار دیا ہے۔ جو اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ عورتوں کی تعلیم نہ صرف خاندان کی فلاح و بہبود بلکہ اگلی سطح پر پورے معاشرے کی ترقی اور فلاح و بہبود کی ضامن ہے۔ تمام الہامی مذاہب اور ترقی پسند معاشروں نے عورتوں کی تعلیم و تربیت کے حق اور ضرورت و اہمیت کو معاشرتی ترقی کا لازمی جزو قرار دیا ہے۔ترقی پذیر ممالک میں صنفی تفریق اور صنفی عدم مساوات کی وجہ سے عورتوں کو شدید مسائل اور عصبیت کا سامنا ہے۔ گو کہ ان ممالک میں عمومی طور پر بنیادی انسانی حقوق کی صورتحال اچھی نہیں لیکن خواتین خاص طور پرشدید صنفی مسائل ( جسمانی، ذہنی، نفسیاتی ،مالی ،ثقافتی ،جنسی ، جذباتی تشدد وغیرہ) کا شکار ہیں۔تعلیم کا حق ہر فرد کو بلا تخصیص رنگ و نسل و جنس و شہریت حاصل ہے مگر افسوسناک طور پر پوری ترقی پذیر دنیا میں مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کی شرح خواندگی کا اعشاریہ بہت نیچے ہے۔ ایسے تمام معاشرے جہاں دیگر حقوق میں لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت دی جاتی ہے وہاں لڑکیوں کو تعلیم کے حق میں بھی شدید صنفی تفریق کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور نتیجتہََ وہاں معاشرتی ترقی کی رفتار مایوس کن ہے۔حقوق اطفال کنونشن( CRC) 1989 کے حلیف تمام ممالک اس بات کے پابند ہیں کہ اپنے ممالک میں ہر قسم کی صنفی تفریق اور تشدد کے خاتمہ کے لیے قانون سازی کریں اور صنفی ترقی کی پالیسیوں اور قوانین کے عملی نفاذ کو ہر ممکن حد تک یقینی بنائیں۔ اس کے علاوہ فروری 1996 میں ہونے والے ایک اور بین الاقوامی معاہدے CEDAW کے مطابق تمام حلیف ممالک لڑکیوں اور خواتین کے حقوق کی حفاظت اور ترویج و ترقی کے ذمہ دار ہیں۔ پاکستان بھی ان معاہدوں کا حصہ ہے۔تعلیم ہی وہ بنیادی اور موثر ترین ہتھیار ہے جس کی مدد سے نہ صرف ہمہ قسم صنفی تفریق ، صنفی تشد د اور عدم مساوات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ان مسائل سے مستقل چھٹکارا بھی پایا جا سکتا ہے۔ورلڈ بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق پچھلی کچھ دہائیوں میں لڑکیوں کے تعلیم کے حق میں سامنے آنے والی صنفی تفریق کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے اگرچہ دیگر عوامل مثلََا رسوم و رواج، مذہب وغیرہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی معاشرہ ایک پدر سری معاشرہ ہے جہاں لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت ی جاتی ہے اور اسی وجہ سے پاکستان میں بھی لڑکیوں کی تعلیم صنفی عدم مساوات کا شکار ہے۔ خاص طور پر دیہاتی علاقوں میں صورتحال خاصی تشویشناک ہے۔ سکولز میں داخلوں کی تعداد، روزانہ حاضری کی شرح، سالانہ امتحان میں شمولیت کی فیصد اور ڈراپ آؤٹ کی شرح، عورتوں اور مردوں میں شرح خواندگی کا تقابلی جائزہ اس صنفی تفریق کا واضح اشارہ ہے جبکہ دوسری طرف ملکی آبادی میں خواتین کی شرح مردوں سے زیاہ ہے۔صنفی امتیاز اور صنفی عدم مساوات کے خاتمہ کے لیے معاشی طور پر خواتین کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے اور ایسا ہونا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک لڑکیاں تعلیم یافتہ اور ہنر مند نہ ہوں۔2008 کی ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 47 ملین باروزگار افراد میں خواتین صرف 09ملین ہیں اور ان میں بھی 70% زراعت کے شعبہ (مزدوری) سے وابستہ ہیں یعنی پڑھی لکھی ہنرمند ،تربیت یافتہ خواتین ورکرز انتہائی کم ہیں۔ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کی شرح کو متاثر کرنے والے عوامل میں سماجی اور معاشی عوامل دونوں ہی کارفرما نظر آتے ہیں۔خاندانی رسوم و رواج، عورتوں کے تحفظ کے بارے میں مخصوص اندازِ فکر، کم عمری کی شادیاں، معاشی کمزور حالات، پڑھی لکھی خواتین کی بیروزگاری، لڑکیوں کے لیے سکول کا دور ہونا یا الگ سکول نہ ہونا، بیٹیوں کو بیٹوں کے برابر نہ سمجھنا اور بیٹی کو پرائی امانت سمجھتے ہوئے اس کے تعلیمی اخراجات کو بے فائدہ سمجھنا جیسی وجوہات عام نظر آتی ہیں۔حکومت لڑکیوں کی تعلیم کی شرح میں بہتری کے لیے کافی کوششیں کر رہی ہے مثلََا پرائمری سکولز میں بلا تخصیص خواتین اساتذہ کی بھرتی تاکہ الگ سکول نہ ہونے کی وجہ سے لڑکیاں تعلیم سے محروم نہ رہیں۔

 

کمنٹ کریں - Leave Comments

آپ کا ای میل خفیہ رکھا جائے گا۔ تمام فیلڈ فل کرنا ضروری ہیں۔ Your Email will never published. *

*