تازہ ترین
آپریشن خیبر4مکمل ، راجگال اور شوال میں زمینی اہداف حاصل کرلیے ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر         ہماری خفیہ ایجنسیزاتنی قابل ہیں کہ وہ کوئی بھی معلومات کہیں سے بھی نکال سکتی ہیں:میجر جنرل آصف غفور         پاک فو ج نے 2013میں سنی مسجد پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا نیٹ ورک پکڑ لیا ،اعترافی بیان جاری         ارفع کریم ٹاور بم دھماکے کا اصل ہدف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے، عین موقع پر دہشت گردوں نے پولیس نوجوانوں پر حملہ کیا: ڈی جی آئی ایس پی آر         جشن آزادی کی تقریبات پر بڑے حملوں کو پاک فوج نے کیسے ناکام بنایا؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے خوفناک حقیقت بیان کردی         کیریئر میں فضائی انجینئر بننا چاہتی تھی: پریانکا چوپڑا         وزیر اعلی پنجاب شہبازشریف کی طرف سے عمران خان کو 10ارب روپے ہرجانے کیس کی سماعت،عمران خان کو جواب داخل کروانے کے ایک بار پھر 9ستمبر تک کا وقت دے دیا گیا         فوج اورسویلین کوئی تقسیم نہیں ہے:میجر جنرل آصف غفور         ڈان لیکس رپورٹ کھولنا حکومت کی صوابدید ہے : میجر جنرل آصف غفور         پرویز مشرف 4دہائیوں تک فوج میں رہے ہیں، ان کے فوج کے حوالے سے بیانات ذاتی تجربہ ہیں: میجر جنر ل آصف غفور        
pic_9e43f_1497439797

مون سون مہمان موسم

نسرین شاہین:
مون سون دنیا کا پیچیدہ ترین اور ڈرامائی موسم جسے آپ پانچواں موسم کہہ سکتے ہیں۔عام معنوں میں مون سون سے مراد ایک مخصوص موسم ہے۔درحقیقت یہ ایک ہوا کا نام ہے جو سارا سال چلتی ہے۔یہ عربی زبان کے لفظ “موسم“ سے نکلا ہے اور بطور اصطلاح اس سب سے پہلے عرب جہاز رانوں نے استعمال کیاتھا۔مون سون کی بنیاد کئی طبعی میکنزم پر استوا ر ہے جو نہایت طاقتور موسمیاتی ہوائیں جنم دیتے ہیں۔ان ہواؤں کی بدولت برصغیر پاک وہند،آسٹریلیا اور وسطی و شمالی امریکا میں گرمیوں میں زبردست بارشیں ہوتی ہیں،مگر سردیاں تقریباََ خشک گزرتی ہیں۔ان ہواؤں یا ہوا کا نام ہی ”مون سون“ہے۔
مون سون موسم کی اقسام میں اپنی مخصوص خصوصیات کے باعث پاک و ہند والی قسم سب سے زیادہ طاقتور اور شدید ہے،خاص طور پر وہ مون سون ہوائیں جو جون سے ستمبر تک جنوبی مغرب کی طرف چلتی ہیں اور بڑی بارشیں اپنے جلو میں لاتی ہیں۔زمین کے آدھے استوائی علاقوں میں مون سون آتا ہے یہ اپنی شدت اور اہمیت کے باعث سائنس دانوں کے لئے قدرتی لیبارٹری ہے،جس میں بیٹھ کروہ مطالعہ کرسکتے ہیں کہ خشکی ،تری اور فضا آپس میں کس طرح تعاملات کرتے ہیں اور توانائی اور نمی کے ذریعے موسم تخلیق کرتے ہیں۔بہت بڑے رقبے کو متاثر کرنے کے باعث سائنس دان سمجھتے ہیں کہ مون سون عالمی موسم اور آب وہوا تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔مون سون ہوائیں چلنے کی وجہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ خشکی پانی سے زیادہ جلدی گرم ہو جاتی ہے۔اور ٹھنڈی بھی جلد ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ گرمیوں میں زمین کا درجہ حرارت سمندر سے زیادہ ہوتا ہے۔یہ تو ہوئی مون سون کی بنیادی تعریف،اب آتے ہیں مون سون ہواؤں سے پیدا ہونے والے ان اثرات کی طرف جو بعض اوقات بے حد مضرِ صحت ثابت ہوتے ہیں
مون سون اور جلدی امراض:
جلد جسم کا سب سے بڑا اور اہم حصہ ہے ۔بیرونی امراض کی جب بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد جلد کے امراض ہی ہوتے ہیں۔یوں تو ہر موسم ہی انسانی جلد پر اپنے اثرات چھوڑتا ہے،تاہم گرمیوں میں جلد مختلف امراض کا خاص ہدف بن جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ گرمیوں میں جراثیم کی افزائش زیادہ تیزی سے ہوتی ہے۔گرمیوں میں عام طور پر جلد کے امراض حملہ آور ہوتے ہیں،ان میں چھائیاں اور دھوپ کی الرجی سے پیدا ہونے والی بیماریاں عام ہیں۔جھائیوں سے چہرے پر کالے اور بھولے رنگ کے نشانات بن جاتے ہیں۔اس کا بہترین علاج دھوپ سے بچاؤ اور سن بلاک کا استعمال ہے۔دھوپ سے الرجی ہونے کی صورت میں دھوپ میں نکلتے ہی خارش شروع ہو جاتی ہے،چہرہ خشک ہو جاتاہے،دانے نکل آتے ہیں،ہاتھوں کی پشت پر سرخی آجاتی ہے،جس سے بچاؤ کا سب سے بہترین عمل خود کو دھوپ سے بچانا ہے۔ان دنوں مون سون کا آغاز ہو چکا ہے۔مون سون میں جلد کو دواقسام کے امراض سے زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے۔اول بیکٹیریل انفکشن جس کے اثرات متاثرہ شخص کو خاصی دیر تک بھگتنا پڑتے ہیں۔ان میں سے سب سے زیادہ گرمی دانے ہیں ،جنہیں”پت“ بھی کہا جاتا ہے عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ گرمی دانے گرم اشیاء کھانے سے نکلتے ہیں۔خاص طور پر آم کو اس میں قصور وار سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں کھانے پینے کی اشیاء سے گرمی دانوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ مرض جلد میں پسینہ بنانے والے غدود میں سوزش کی وجہ سے ہوتا ہے۔جب ہوا میں نمی کی مقدار زیادہ ہو،گرمی شدید ہو تو حبس ہوجاتا ہے،جس کی وجہ سے پسینہ زائد مقدار میں جسم سے خارج ہوتا ہے۔اور مناسب صفائی نہ کرنے سے نارمل جلد پر بھی جبکہ اس صورتحال سے عمومی طور پر حساس جلد پر موجود پسینہ بنانے والے غدود میں سوزش ہو جاتی ہے۔یہی سوزش بعد میں گرمی دانوں کی شکل میں نظر آتی ہے۔اگر احتیاط نہ کیا جائے تو گرمی دانے ،جو سرخ رنگ میں ہوتے ہیں ان میں پیپ پڑ جاتی ہے جس سے جلن زیادہ ہوجاتی ہے ،پھر یہ دانے بگڑ جائیں تو پھنسی،پھوڑوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔مریض کو بخار ہوجاتا ہے۔اور دانے،بخار اور درد مل کر روزمرہ زندگی کو اجیرن کردیتے ہیں۔ساتھ ہی یہ مرض چھوت بھی ہے،جس سے دوسرے لوگوں کو تیزی سے متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
بیکٹیریل انفیکشن سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ جب گرمی دانے نکلیں تو اسے نظر انداز نہ کریں۔پھوڑے پھنسیوں کی صورت اختیارب کرنے کے بعد کا علاج ہو جاتا ہے،لیکن اکثر ہی یہ اپنے بدنما نشانات جسم پر چھوڑ جاتے ہیں۔مون سون میں کوشش کی جائے کہ ذاتی استعمال کی اشیاء خاص طور پرتولیہ ،مشترکہ استعمال نہ کریں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
بازار میں گرمی دانے دور کرنے والے کو پاؤڈر دستیاب ہیں وہ وقتی طور پر تو سکون دے دیتے ہیں،لیکن گرمی دانوں کا علاج نہیں کرتے یہ پاؤڈر دانوں کی جلن دور کرنے کے لیے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ،لیکن اگر انفیکشن بڑھتا نظر آئے تو ڈاکٹر سے علاج کروانے میں ہی بہتری ہے ورنہ مرض بڑھ بھی سکتا ہے۔
مون سون اور پھپھوندی:
گرمی دانوں اور پھوڑے پھنسیون کے علاوہ مون سون میں پھیپھوندی کے امراض بھی عام ہو جاتے ہیں۔عام طور پر پاؤں اور ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان اور ناخنوں کے گرد پھیپھوندی لگتی ہے۔پھیپھوندی لگنے کی کئی وجوہات ہیں جن میں بند جوتے مسلسل پہنے رہنا،گرم یا ریشمی جرابیں پہننا،پانی میں خاصی دیر تک رہنا وغیرہ شامل ہیں۔دیکھنے میں آیا ہے کہ پاؤں کی انگلیوں کے درمیان پسینہ یا پانی کی وجہ سے نمی رہتی ہے جسے خشک نہیں کیا جاتا۔اس سے انگلیوں کے درمیان خارش ہونے لگتی ہے،جلد سرخ ہوجاتی ہے اور پھر سفید مادہ جم جاتا ہے اور بدبو آنے لگتی ہے۔آہستہ آہستہ وہ زخم بن جاتے ہیں اور متاثرہ شخص کے لیے چلنا دشوار ہو جاتا ہے کئی صورتوں میں پورے پاؤں پر سوزش بھی ہوجاتی ہے۔اسی طرح یہ عمل ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان بھی ہوتا ہے،جبکہ ناخنوں پر پھیپھوندی لگنے کا عمل جب شروع ہوتا ہے تو سوزش سے آگے کی جگہوں پر پیپ پڑجاتی ہے جو بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔اس سے ناخن بھی اکھڑ جاتے ہیں اور ہاتھ بدنما ہوجاتے ہیں۔
پھیپھوندی کے امراض سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ہاتھ پاؤں خاص طور پر انگلیوں کی درمیانی جگہ کو خشک اور صاف رکھا جائے ،کھلا جوتا پہنا جائے بند جوتا پہننا ضروری ہو تو پھر سوتی جرابیں پہنیں اور دو تین گھنٹے بعد پاؤں دھو کر خشک کرلیں۔
مون سون کے موسم میں جلدی امراض سے بچنے کے لئے اہم ترین احتیاط یہ ہے کہ ہلکے پھلکے اور ڈھیلے ڈھالے ملبوسات پہنیں،صفائی کا خاص خیال رکھیں اور ایسے کام یا کھیل سے گریز کریں جن سے پسینہ زیادہ آئے،نوجوانوں کے لئے اہم بات یہ ہے کہ ان میں جینز پہننے کا رجحان بڑھ رہا ہے،مون سون میں ا سکن ٹائٹ جینز یا دوسری تنگ پتلون یا دیگر ملبوسات پہننے سے اجتناب برتیں چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے مون سون کے مضر اثرات سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔
مون سون اور احتیاط:
یہ درست ہے کہ مون سون سا ل کا وہ حصہ ہے جب عام دنوں کی نسبت نزلہ،زکام،اور کھانسی کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔مون سون کے دوران موسم کے مضر اثرات سے مکمل طور پر محفوظ رہنا تو ممکن نہیں،تاہم اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے کچھ احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کی جاسکتی ہیں تاکہ اس موسم سے لطف اندوز ہوا جاسکے۔سب سے پہلے تو اس موسم میں کسی بھی قسم کے انفیکشن سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے ہاتھوں کو باقاعدگی سے دھوتے رہیں،خاص طور پر جب کچھ کھانے لگے تو پہلے ہاتھوں کو اچھی طرح دھولیں۔یادرکھیں ہر وہ چیز جسے آپ چھوتے ہیں اس پر جراثیم موجود ہوتے ہیں لہٰذا اپنے ہاتھوں کو خوب اچھی طرح دھوئیں،دن بھر میں آپ یہ عمل جتنی بار دہرائیں اتنا بہتر ہوگا۔
اگر آپ کے گردونواح میں کوئی مون سون کے اثرات کا شکار ہوتو آپ کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔متاثرہ فرد کے کپ اور تولیے کو استعمال نہ کریں۔اپنی آنکھوں ،ناک،اور منہ کی حفاظت کا خاص خیال رکھیں کیونکہ چہرے کے یہ ہی حصے نزلہ زکام اور کھانسی وغیرہ کا پہلا ہدف ثابت ہوتے ہیں۔اگر آپ مون سون میں سردی کا شکار ہو گئے ہیں تو زیادہ سے زیادہ آرام کریں۔کیونکہ مون سون کے موسم میں سردی کا شکار ہونے کے بعد نزلہ زکام ہوجاتا ہے،جو صرف آرام کرنے سے ہی جاتا ہے،اس لیے خوب آرام کریں،جلد ہی آپ کی توانائی بحال ہو جائے گی،لیکن اس بات کا خیال رکھیں کہ توانائی بحال ہونے کے بعد بھی احتیاط رکھیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں۔مون سون میں تھنڈے پانی سے ہرگز مت نہائیں،بلکہ نہانے کے لیے نیم گرم لیں اور اس میں چند قطرے ڈیٹول ملا کر نہائیں۔ایک کھلے منہ کے بڑے برتن یا تسلے میں خوب گرم پانی لیں اور پنے منہ کو تسلے کے بالکل اُوپر کرکے اپنے سر کو تولیے سے اچھی طرح ڈھک لیں اور گرم بھاپ اپنی سانسوں کے ذریعے اندر کھینچیں۔یہ عمل آپ کی ناک اور حلق کے بند مسام کھول کر آپ کو سردی کے اثرات سے نجات دلاتا ہے۔
مون سون کے موسم میں کھانے پینے میں خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق کھانا تیار کیا جائے،جس میں صفائی کا خاص خیال رکھا جائے ،کھانے پینے کی اشیاء کو کھلا ہرگز نہ رکھا جائے بلکہ ہر چیزکو ڈھانپ کر رکھیں تاکہ مکھیاں اس پر نہ بیٹھیں،ٹھنڈے مشروبات سے پرہیز کریں اور روزانہ کم ازکم آٹھ گلاس پانی ضرور پیئں۔
اگر پانی اُبال لیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔نزلہ زکام سے محفوظ رہنے کے لیے گرما گرم سوپ کا وافر مقدار میں استعمال بھی نہایت ضروری ہے۔اپنے کھانے اور اسنیکس کے بعد وٹامن سے کے استعمال سے آپ مون سون کی تمام بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
اگر آپ پہلے ہی سے سردی کی زیر اثر ہیں تو چند دن تک وٹامن C کا باقاعدگی سے استعمال کریں آپ یقینا افاقہ محسوس کریں گے۔پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل متوازن غذا کا استعمال کریں،اگر آپ ہرے پتے والی سبزیوں مثلا سلاد،پالک،سرسوں کا ساگ،چولائی،میتھی،وغیرہ کا استعمال کر رہے ہیں تو پہلے ان کو نمک ملے پانی سے اچھی طرح دھولیں تاکہ وہ جراثیم سے پاک ہوجائیں۔مون سون کے دوران سبزیوں کا استعمال مفید رہتا ہے۔اس کے علاوہ صحت بخش غذاؤں کا استعمال ضرورجاری رکھیں۔
مون سون سے لطف اُٹھائیں:
بعض لوگ اس بھیگے بھیگے موسم سے کسی حد تک خوفزدہ یا اُداس ہو جاتے ہیں اور آسانی سے ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں ۔تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اس موسم میں دھوپ کی شدت کم ہوجانے کے باعث جسم میںSerotonim (وہ نیورو ٹرانسمیٹر جو ہمارے موڈ پر اثر انداز ہوتا ہے)کا لیول گرجاتا ہے جس کی وجہ سے ہم اداسی اور ڈپریشن محسوس کرتے ہیں۔وہ لوگ جواداسی کا شکار ہوتے ہیں ان میں میٹھا زیادہ کھانے زیادہ سونے کے علاوہ سردردچڑچڑاپن اور تھکاوٹ کی علامات بھی نمایاں طورپر دیکھی جاسکتی ہیں۔
بارش سے بچنے کیلئے مناسب لباس زیب تن کیجئے اور باہر نکل کر موسم کی خوبصورتی کا لطف اٹھائیں اور دیکھیں کے بارش کے پانی میں دھل کر ہر منظر کس قدر نکھر گیا ہے۔گرما گرم بھاپ اڑاتی سبز چائے کا کپ لے کر گھر کے ایسے حصے میں پیئں جہاں سے بارش کا منظر نظر آئے ،گرم چائے سے لطف اٹھاتے ہوئے کھڑکی،گیلری،یا ٹیرس سے باہر بھیگے موسم کا نطارہ کریں۔اگر آپ بارش میں بھیگ گئے ہیں تو گھرپہنچنے کے بعد گرم شاور لے لیجئے،پھر گرم چائے سے لطف اندوز ہوں۔اگر چائے کے ساتھ پکوڑے سموسے یا رول وغیرہ لیں تو موسم کا لطف دوبالا ہوجائے گا۔اس نم آلود موسم میں بیکٹیریا تیزی سے نشودنما پاتے ہیں اور حشرات و دیگر طریقوں سے بازار میں حفظانِ صحت کے اصولوں کو نظر انداز کرکے تیار کی جانے والی کھانے پینے کی اشیاء کو بے حد آلودہ کردیتے ہیں،جن کے استعمال سے صحت کے خراب ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔یادرکھیں کہ مون سون کے دوران آپ کو شعوری طور پر خود کو خوش باش رکھنا ہے۔اور یہ اُداسی اور ڈپریشن محض وقتی احساسات ہیں اگر اس موسم میں آپ بہت زیادہ سستی یا کمزوری محسوس کر رہوں تو خود کو ہرطرح سے متحرک رکھنے کی کوشش کریں۔اُداسی کو شکست دیں اور مون سون کے دوران ہردن سے لطف اٹھائیں کہ یہ کچھ دنوں کا مہمان موسم ہے۔

کمنٹ کریں - Leave Comments

آپ کا ای میل خفیہ رکھا جائے گا۔ تمام فیلڈ فل کرنا ضروری ہیں۔ Your Email will never published. *

*