تازہ ترین
آپریشن خیبر4مکمل ، راجگال اور شوال میں زمینی اہداف حاصل کرلیے ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر         ہماری خفیہ ایجنسیزاتنی قابل ہیں کہ وہ کوئی بھی معلومات کہیں سے بھی نکال سکتی ہیں:میجر جنرل آصف غفور         پاک فو ج نے 2013میں سنی مسجد پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا نیٹ ورک پکڑ لیا ،اعترافی بیان جاری         ارفع کریم ٹاور بم دھماکے کا اصل ہدف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے، عین موقع پر دہشت گردوں نے پولیس نوجوانوں پر حملہ کیا: ڈی جی آئی ایس پی آر         جشن آزادی کی تقریبات پر بڑے حملوں کو پاک فوج نے کیسے ناکام بنایا؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے خوفناک حقیقت بیان کردی         کیریئر میں فضائی انجینئر بننا چاہتی تھی: پریانکا چوپڑا         وزیر اعلی پنجاب شہبازشریف کی طرف سے عمران خان کو 10ارب روپے ہرجانے کیس کی سماعت،عمران خان کو جواب داخل کروانے کے ایک بار پھر 9ستمبر تک کا وقت دے دیا گیا         فوج اورسویلین کوئی تقسیم نہیں ہے:میجر جنرل آصف غفور         ڈان لیکس رپورٹ کھولنا حکومت کی صوابدید ہے : میجر جنرل آصف غفور         پرویز مشرف 4دہائیوں تک فوج میں رہے ہیں، ان کے فوج کے حوالے سے بیانات ذاتی تجربہ ہیں: میجر جنر ل آصف غفور        
pic_e027c_1500467063

غسل؛ صفائی اور صحت کا ضامن ہے

غسل․․․․صحت و صفائی کے لیے بہت ضروری ہے‘ اس کے بغیر صفائی اور خوبصورتی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔غسل کے بغیر حسن نامکمل ہے،اس کے ذریعے پورے جسم کی صفائی ہوتی ہے اور خوبصورتی کو نکھار ملتا ہے۔یہ محض روزانہ کا ایک معمول نہیں ہے بلکہ سکون حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔قدیم زمانے میں بھی باتھ روم اور اسپا وغیرہ میں غسل کے لیے پُرتعیش لوازمات ہوا کرتے تھے۔اور پوری دنیا سے انہیں جمع کیا جاتا تھا،آج بھی لوگ باتھ روم پر اُسی قدر توجہ صرف کرتے ہیں جتنا کہ گھر کے دوسرے حصوں پر ایک مکمل غسل کے لیے کچھ بنیادی اور اہم لوازمات ہوتے ہیں جو زمانے یا دور کے بدلنے کے باوجود بھی تبدیل نہیں ہوئے۔یہ آج بھی گئے دنوں کی طرح ویسے ہی ہیں۔
باتھ روم کو نہایت صاف ستھرا ہونا چاہیے ،اگر یہ زیادہ بڑا نہیں ہے تب بھی اسے صاف ستھرا رکھا جاسکتا ہے اگر آپ کے پاس ایک بڑے کمرے کے ساتھ ساتھ باتھ روم ہے تو آپ کو اس کی ترتیب اور صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
غسل کا اہتمام:
ترتیب میں حسن ہوتا ہے۔صابن،شیمپو،تیل،لوشن،اور تولیہ وغیرہ معقول جگہ پر رکھے جائیں تاکہ باتھ روم کا خوشگوار تاثر قائم رہے اور آپ خود بھی اس میں غسل کرکے اچھا محسوس کریں۔تولیے کو صاف اور خشک رکھیں۔ہر مرتبہ استعمال کے بعد تولیے کو دھوپ لگا کر خشک کرلیں۔اپنے ٹاولز اور نیپکن کوکسی اور کے ساتھ شیئر نہ کریں۔یہ حفظانِ صحت کے اصولوں کے خلاف ہے اور جراثیم کو پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔اگر آپ تولیہ اور نیپکن خشک نہیں کریں گی تو ان میں سے ناگوار بو آئے گی جو پورے باتھ روم میں پھیل جائے گی باتھ روم کے دروازے پر ایک فٹ میٹ رکھیں تاکہ گیلے پاؤں کو اس سے صاف کرلیا جائے۔اپنے باتھ روم کو اینٹی سپٹک سے صاف کریں۔یہاں خوشبودار پھول رکھیں یا ایسی ہی اشیاء رکھیں جس سے باتھ روم مہکتا رہے۔باتھ روم کی ہر چیز کو روزانہ صاف کریں مثلا پرفیوم کی بوتل صابن دانی،لوشن اور دیگر چیزیں۔ان کو روزانہ صاف کریں۔اگر آپ کے پاس پر تعیش باتھ روم نہیں ہے یعنی باتھ ٹپ نہیں ہے تو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔اس کے بغیر بھی آپ اپنے غسل کو پرتعیش بنا سکتی ہیں۔غسل کے لئے ایک عدد بالٹی اور ایک مگ ضروری ہے یا شاور لگوالیں۔ہینڈ شاور سے زیادہ آسانی رہتی ہے۔خاص طور پر بچوں کو نہلانے کے لئے ہینڈ شاور ہی مناسب رہتا ہے۔
بچے کو ہمیشہ بے بی صابن یا بے بی شیمپو سے نہلانا چاہیے تاکہ بچوں کو آنکھوں میں صابن سے جلن نہ ہو۔ٹب میں بٹھا کر بچے کو ہینڈ شاور سے آسانی کے ساتھ نہلایا جا سکتا ہے بچہ خوشی محسوس کرے گا اور آپ کے لیے بھی یہ ایک خوشگوارعمل ہوگا۔
غسل ایک خوشگوار عمل ہے نا صرف بچوں کیلئے بلکہ ہر عمر کے فرد کیلئے غسل اہمیت رکھتا ہے۔غسل سے قدرتی خوبصورتی میں نکھار پیدا کیا جاسکتا ہے۔اپنے جسم پر وٹامن ای یازیتون کے تیل کی مالش کریں۔خود کو گیلا کریں اور جسم پر صابن لگائیں ۔فوم کے ذریعے پورے بدن پرصابن کو اچھی طرح پھیلائیں اور شاور لے لیں۔اگر آپ روزانہ شیمپو لگاتی ہیں تو پھر یہ عمل بھی کریں اور کنڈیشنر بھی لگائیں۔اپنے آپ کو اچھی طرح صاف کریں،بالوں سے شیمپو اچھی طرح نکالیں اور بالوں کو تولیہ سے خشک کریں۔جسم کو بھی خشک کریں۔اس کے بعد پورے جسم پر لوشن لگائیں پھر لباس زیب تن کریں۔اپنی جلد کی ساخت کے مطابق ہمیشہ صابن کا استعمال کریں۔اس سلسلے میں موسم کا بھی خیال رکھیں۔سردیوں میں موئسچرائز والے صابن اچھے رہتے ہیں جبکہ موسم برسات میں اینٹی سپٹک والے اور گرمیوں میں ایسے صابن کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ پسینے سے پیدا ہونے والے جراثیم کا خاتمہ ہوسکے۔غسل کے لیے اسکرب بڑی اہمیت رکھتا ہے۔آپ ریڈی میڈ یا گھر پر تیار کردہ اسکرب اپنے جسم پر استعمال کرسکتی ہیں اس کے ذریعے جلد پر موجود ڈیڈ سیل ختم ہو جاتے ہیں اور آپ کو غسل کرنے کا ایک انوکھا تجربہ ہوگا۔اگر آپ کے پاس روزانہ ایسا کرنے کا وقت نہیں ہے تو آپ یہ عمل ہفتے میں ایک بار ضرور کریں۔ریڈی میڈ اسکرب آپ کو کاسمیٹک کی شاپ سے آسانی سے دستیاب ہوجائے گا لیکن گھریلو اسکرب کی بات اورہے آپ اسکرب گھر میں آسانی سے تیار کرسکتی ہیں۔یہاں ہم چند گھریلو نسخے بتا رہے ہیں۔
بہت ہی آسان اور قدیم نسخہ بیسن اور دہی کاہے۔ایک پیالے میں حسب ضرورت بیسن لے لیں۔چٹکی بھر ہلدی ڈالیں اور دہی ملا کر پیسٹ بنالیں،اسے جسم پر لگائیں ۔جب آدھا خشک ہوجائے تو اسے رگڑ کر چھڑالیں۔اس سے آپ کی جلد کا سانولا پن کم ہوگا۔ اور جلد شگفتہ دانوں سے پاک ہوجائے گی۔
چاول کو ساری رات دودھ میں بھیگنے دیں۔صبح اسے گرائنڈ کرکے پیسٹ بنالیں اور پورے جسم پر ملیں اس سے سفید اور کالے ڈیڈ سیل صاف ہوجائیں گے اور آپ کا جسم صاف ہوجائے گا۔
آٹا لے کر اس میں بغیر ابلا ہوا دودھ ڈالیں اور پیسٹ بنالیں اور اسے پورے جسم پر لگائیں رگڑنے والے انداز میں ‘رواں کے مخالف سمت رگڑنے سے سارے روئیں (بال)صاف ہوجائیں گے اور جسم میں شگفتگی آجائے گی۔
اگر گرمیوں میں جسم پر گرمی دانے نکل آئے تو ایک مگ پانی میں نیم کے پتے اُبال کر غسل کے پانی میں اسے ملا لیں۔پھر غسل کریں دانوں سے نجات مل جائے گی۔
غسل سے صحت ہے:
یہ درست ہے کہ پانی ہماری زندگی کا لازمی عنصر ہے پانی ایک فرحت بخش مشروب ہے اس میں سکون بھی ہے اور توانائی بھی۔جسم میں پانی کی کمی سے کئی عوراض لاحق ہوجاتے ہیں پانی ایک مکمل مشروب ہے جس میں شفاہی شفا ہے۔پانی نہ صرف جسم کے اندرونی اعضاء کیلئے ضروری ہے بلکہ بیرونی اعضاء کیلئے بھی لازمی ہے ۔جسم کی صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ پانی سے کئی ذہنی اور جسمانی ،بیماریاں بھی دور کی جاسکتی ہیں یقینا آپ نے ”اسپا“ کانام سنا ہوگا۔پانی کے ذریعے علاج بہت قدیم طریقہ ہے اسپا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں بڑی حیرت انگیز باتیں سامنے آئے گی۔

کمنٹ کریں - Leave Comments

آپ کا ای میل خفیہ رکھا جائے گا۔ تمام فیلڈ فل کرنا ضروری ہیں۔ Your Email will never published. *

*